نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا
مجھے تو ہوش دے اتنا رہوں میں تجھ پہ دیوانا
کتابوں میں دھرا ہے کیا بہت لکھ لکھ کے دھو ڈالیں
ہمارے پہ نقش کالجحر ہے تیرا فرمانا
غنیمت جان جو دم گزرے کیفیت سے گلشن میں
دئے جا ساقیٔ پیماں شکن بھر بھر کے پیمانا
نہ دیکھا وہ کہیں جلوہ جو دیکھا خانۂ میں
بہت مسجد میں سر مارا بہت سا ڈھونڈا بت خانا
کچھ ایسا ہو کہ جس سے منزل مقصود کو پہنچوں
طریق پارسائی ہووے یا ہو راہ رندانا
یہ ساری آمد و شد ہے نفس کی آمد و شد پر
اسی تک آنا جانا ہے نہ پھر جانا نہ پھر آنا
ظفرؔ وہ زاہد بے درد کی ہو حق سے بہتر ہے
کرے گر رند درد دل سے ہاو ہوئے مستانا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں