نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصل
تمہیں دینا ہی ہوگا بوسہ خم روئی سے کیا حاصل
آزاری نے تیری کر دیا بالکل مجھے بیدل
نہ کر اب میری جوئی کہ دل جوئی سے کیا حاصل
نہ جب تک چاک ہو دل پھانس کب دل کی نکلتی ہے
جہاں ہو کام خنجر کا وہاں سوئی سے کیا حاصل
برائی یا بھلائی گو ہے اپنے واسطے لیکن
کسی کو کیوں کہیں ہم بد کہ بد گوئی سے کیا حاصل
نہ کر فکر خضاب اے شیخ تو پیری میں جانے دے
جواں ہونا نہیں ممکن سیہ روئی سے کیا حاصل
چڑھائے آستیں خنجر بکف وہ یوں جو پھرتا ہے
اسے کیا جانے ہے اس عربدہ جوئی سے کیا حاصل
عبث پنبہ نہ رکھ داغ دل سوزاں پہ تو میرے
کہ انگارے پہ ہوگا چارہ گر روئی سے کیا حاصل
شمیم زلف ہو اس کی تو ہو فرحت مرے دل کو
صبا ہووے گا مشک چیں کی خوشبوئی سے کیا حاصل
نہ ہووے جب تلک انساں کو دل سے میل یک جانب
ظفرؔ لوگوں کے دکھلانے کو یکسوئی سے کیا حاصل
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں