نہ دائم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
تبدل یاں ہے ہر ساعت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
گریباں چاک ہوں گاہے اڑاتا ہوں گاہے
لیے پھرتی مجھے وحشت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
ابھی ہیں وہ مرے ہم دم ابھی ہو جائیں گے دشمن
نہیں اک وضع پر صحبت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
جو شکل شیشہ گریاں ہوں تو مثل جام خنداں ہوں
یہی ہے یاں کی کیفیت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
کسی وقت اشک ہیں جاری کسی وقت آہ اور زاری
غرض حال غم فرقت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
کوئی دن ہے بہار گل پھر آخر ہے خزاں بالکل
چمن ہے منزل عبرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
ظفرؔ اک بات پر دائم وہ ہووے کس طرح قائم
جو اپنی پھیرتا نیت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں