میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں
تیرا بندہ ہوں اے کچھ ہوں
جزو و کل کو نہیں سمجھتا میں
میں تھوڑا سا جانتا کچھ ہوں
تجھ سے الفت نباہتا ہوں میں
با وفا ہوں کہ بے وفا کچھ ہوں
جب سے ناآشنا ہوں میں سب سے
تب کہیں اس سے آشنا کچھ ہوں
نشۂ عشق لے اڑا ہے مجھے
اب مزے میں اڑا رہا کچھ ہوں
خواب میرا ہے عین بیداری
میں تو اس میں بھی دیکھتا کچھ ہوں
گرچہ کچھ بھی نہیں ہوں میں لیکن
اس پہ بھی کچھ نہ پوچھو کیا کچھ ہوں
سمجھے وہ اپنا خاکسار مجھے
خاک رہ ہوں کہ خاک پا کچھ ہوں
چشم الطاف فخر دیں سے ہوں
اے ظفرؔ کچھ سے ہو گیا کچھ ہوں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں