کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور
دیکھو زمیں فلک سے فلک ہے زمیں سے دور
وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاں
کیونکر رہے اس کے رخ آتشیں سے دور
مضمون وصل و ہجر جو نامہ میں ہے رقم
ہے حرف بھی کہیں سے ملے اور کہیں سے دور
گو تیر بے گماں ہے مرے پاس پر ابھی
جائے نکل کے سینۂ چرخ بریں سے دور
وہ کون ہے کہ جاتے نہیں آپ جس کے پاس
لیکن ہمیشہ بھاگتے ہو تم ہمیں سے دور
حیران ہوں کہ اس کے مقابل ہو آئینہ
جو پر غرور کھنچتا ہے ماہ مبیں سے دور
یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میں
وہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور
منظور ہو جو دید تجھے دل کی آنکھ سے
پہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور
دنیائے دوں کی دے نہ محبت خدا ظفرؔ
انساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں