کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے
کچھ کرتے ہیں ایسا بخدا کچھ نہیں کرتے
اپنے مرض کا حکیم اور کوئی ہے
ہم اور طبیبوں کی دوا کچھ نہیں کرتے
معلوم نہیں ہم سے حجاب ان کو ہے کیسا
اوروں سے تو وہ شرم و حیا کچھ نہیں کرتے
گو کرتے ہیں ظاہر کو صفا اہل کدورت
پر کو نہیں کرتے صفا کچھ نہیں کرتے
وہ دلبری اب تک مری کچھ کرتے ہیں لیکن
تاثیر ترے نالے دلا کچھ نہیں کرتے
دل ہم نے دیا تھا تجھے امید وفا پر
تم ہم سے نہیں کرتے وفا کچھ نہیں کرتے
کرتے ہیں وہ اس طرح ظفرؔ دل پہ جفائیں
ظاہر میں یہ جانو کہ جفا کچھ نہیں کرتے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں