خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد تو
پر جو فریادی ہیں ان کی سن تو لے فریاد تو
دم بدم بھرتے ہیں ہم تیری ہوا خواہی کا دم
کر نہ بد خوؤں کے کہنے سے ہمیں برباد تو
کیا گنہ کیا جرم کیا تقصیر میری کیا خطا
بن گیا جو اس طرح حق میں مرے جلاد تو
قید سے تیری کہاں جائیں گے ہم بے بال و پر
کیوں قفس میں تنگ کرتا ہے ہمیں صیاد تو
کو دل سے راہ ہے تو جس طرح سے ہم تجھے
کرتے ہیں کرے یوں ہی ہمیں بھی یاد تو
دل ترا فولاد ہو تو آپ ہو آئینہ وار
صاف یک باری سنے میری اگر روداد تو
شاد و خرم ایک عالم کو کیا اس نے ظفرؔ
پر سبب کیا ہے کہ ہے رنجیدہ و ناشاد تو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں