کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے
جو ہوگی عمر بھر کی تو دم بھر میں آویں گے
اگر ہاتھوں سے اس شیریں ادا کے ذبح ہوں گے ہم
تو شربت کے سے گھونٹ آب دم خنجر میں آویں گے
یہی گر جوش گریہ ہے تو بہہ کر ساتھ اشکوں کے
ہزاروں پارۂ میرے چشم تر میں آویں گے
گر اس قید بلا سے اب کی چھوٹیں گے تو پھر ہرگز
نہ ہم دام فریب شوخ غارت گر میں آویں گے
نہ جاتے گرچہ مر جاتے جو ہم معلوم کر جاتے
کہ اتنا تنگ جا کر کوچہ دلبر میں آویں گے
گریباں چاک لاکھوں ہاتھ سے اس مہر طلعت کے
برنگ صبح محشر عرصۂ محشر میں آویں گے
جو سرگردانی اپنی تیرے دیوانے دکھائیں گے
تو پھر کیا کیا بگولے دشت کے چکر میں آویں گے
ظفرؔ اپنا کرشمہ گر دکھایا چشم ساقی نے
تماشے جام جم کے سب نظر ساغر میں آویں گے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں