کافر تجھے اللہ نے صورت تو پری دی
پر حیف ترے میں محبت نہ ذری دی
دی تو نے مجھے سلطنت بحر و بر اے
ہونٹوں کو جو خشکی مری آنکھوں کو تری دی
خال لب شیریں کا دیا بوسہ کب اس نے
اک چاٹ لگانے کو مرے نیشکری دی
کافر ترے سوائے سر زلف نے مجھ کو
کیا کیا نہ پریشانی و آشفتہ سری دی
محنت سے ہے عظمت کہ زمانے میں نگیں کو
بے کاوش سینہ نہ کبھی ناموری دی
صیاد نے دی رخصت پرواز پر افسوس
تو نے نہ اجازت مجھے بے بال و پری دی
کہتا ترا کچھ سوختہ جاں لیک اجل نے
فرصت نہ اسے مثل چراغ سحری دی
قسام ازل نے نہ رکھا ہم کو بھی محروم
گرچہ نہ دیا کوئی ہنر بے ہنری دی
اس چشم میں ہے سرمے کا دنبالہ پر آشوب
کیوں ہاتھ میں بدمست کے بندوق بھری دی
دل دے کے کیا ہم نے تری زلف کا سودا
اک آپ بلا اپنے لیے مول خریدی
ساقی نے دیا کیا مجھے اک ساغر سرشار
گویا کہ دو عالم سے ظفرؔ بے خبری دی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں