عشق تو مشکل ہے اے کون کہتا سہل ہے
لیک نادانی سے اپنی تو نے سمجھا سہل ہے
گر کھلے کی گرہ تجھ سے تو ہم جانیں تجھے
اے صبا غنچے کا عقدہ کھول دینا سہل ہے
ہمدمو دل کے لگانے میں کہو لگتا ہے کیا
پر چھڑانا اس کا مشکل ہے لگانا سہل ہے
گرچہ مشکل ہے بہت میرا علاج درد دل
پر جو تو چاہے تو اے رشک مسیحا سہل ہے
ہے بہت دشوار مرنا یہ سنا کرتے تھے ہم
پر جدائی میں تری ہم نے جو دیکھا سہل ہے
شمع نے جل کر جلایا بزم میں پروانے کو
بن جلے اپنے جلانا کیا کسی کا سہل ہے
عشق کا رستہ سراسر ہے دم شمشیر پر
بوالہوس اس راہ میں رکھنا قدم کیا سہل ہے
اے ظفرؔ کچھ ہو سکے تو فکر کر عقبیٰ کا تو
کر نہ دنیا کا تردد کار دنیا سہل ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں