ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے
غرور چھوڑ دو اے غافلو کے لیے
گرا دیا ہے ہمیں کس نے چاہ الفت میں
ہم آپ ڈوبے کسی اپنے آشنا کے لیے
جہاں میں چاہیئے ایوان و قصر شاہوں کو
یہ ایک گنبد گردوں ہے بس گدا کے لیے
وہ آئینہ ہے کہ جس کو ہے حاجت سیماب
اک اضطراب ہے کافی صفا کے لیے
تپش سے دل کا ہو کیا جانے سینے میں کیا حال
جو تیرے تیر کا روزن نہ ہو ہوا کے لیے
طبیب عشق کی دکاں میں ڈھونڈتے پھرتے
یہ دردمند محبت تری دوا کے لیے
جو ہاتھ آئے ظفرؔ خاک پائے فخراؔلدین
تو میں رکھوں اسے آنکھوں کے توتیا کے لیے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں