ہم نے تری خاطر سے زار بھی چھوڑا
تو بھی نہ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا
کیا ہوگا رفوگر سے رفو میرا گریبان
اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا
دیں دے کے گیا کفر کے بھی کام سے عاشق
تسبیح کے ساتھ اس نے تو زنار بھی چھوڑا
گوشہ میں تری چشم سیہ مست کے نے
کی جب سے جگہ خانۂ خمار بھی چھوڑا
اس سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے
مفلس کو جو مارا تو نہ زردار بھی چھوڑا
ٹیڑھے نہ ہو ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا
تم پیار سے رکتے ہو تو لو پیار بھی چھوڑا
کیا چھوڑیں اسیران محبت کو وہ جس نے
صدقے میں نہ اک مرغ گرفتار بھی چھوڑا
پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر اس کو
اس شوخ نے تو دیکھنا اخبار بھی چھوڑا
کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرار
مدت سے ظفرؔ اس نے وہ اقرار بھی چھوڑا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں