ہے کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی
آنکھوں کے تلے پھرتی ہے تصویر کسی کی
گریہ بھی ہے نالہ بھی ہے اور آہ و فغاں بھی
پر میں ہوئی اس کے نہ تاثیر کسی کی
ہاتھ آئے ہے کیا خاک ترے خاک کف پا
جب تک کہ نہ قسمت میں ہو اکسیر کسی کی
یارو وہ ہے بگڑا ہوا باتیں نہ بناؤ
کچھ پیش نہیں جانے کی تقریر کسی کی
نازاں نہ ہو منعم کہ جہاں تیرا محل ہے
ہووے گی یہاں پہلے بھی تعمیر کسی کی
میری گرہ دل نہ کھلی ہے نہ کھلے گی
جب تک نہ کھلے زلف گرہ گیر کسی کی
آتا بھی اگر ہے تو وہ پھر جائے ہے الٹا
جس وقت الٹ جائے ہے تقدیر کسی کی
اس ابرو و مژگاں سے ظفرؔ تیز زیادہ
خنجر نہ کسی کا ہے نہ شمشیر کسی کی
جو دل سے ادھر جائے نظر دل ہو گرفتار
مجرم ہو کوئی اور ہو تقصیر کسی کی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں