گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں کو میرے قرار ہے
کروں اس ستم کو میں کیا بیاں مرا سے سینہ فگار ہے
یہ رعایۂ ہند تبہ ہوئی کہوں کیا جو ان پہ جفا ہوئی
جسے دیکھا حاکم وقت نے کہا یہ بھی قابل دار ہے
یہ کسی نے ظلم بھی ہے سنا کہ دی پھانسی لوگوں کو بے گناہ
وہی کلمہ گویوں کی سمت سے ابھی دل میں ان کے بخار ہے
نہ تھا شہر دہلی یہ تھا چمن کہو کس طرح کا تھا یاں امن
جو خطاب تھا وہ مٹا دیا فقط اب تو اجڑا دیار ہے
یہی تنگ حال جو سب کا ہے یہ کرشمہ قدرت رب کا ہے
جو بہار تھی سو خزاں ہوئی جو خزاں تھی اب وہ بہار ہے
شب و روز پھول میں جو تلے کہو خار غم کو وہ کیا سہے
ملے طوق قید میں جب انہیں کہا گل کے بدلے یہ ہار ہے
سبھی جادہ ماتم سخت ہے کہو کیسی گردش بخت ہے
نہ وہ تاج ہے نہ وہ تخت ہے نہ وہ شاہ ہے نہ دیار ہے
جو سلوک کرتے تھے اور سے وہی اب ہیں کتنے ذلیل سے
وہ ہیں تنگ چرخ کے جور سے رہا تن پہ ان کے نہ تار ہے
نہ وبال تن پہ ہے سر مرا نہیں جان جانے کا ڈر ذرا
کٹے غم ہی، نکلے جو دم مرا مجھے اپنی زندگی بار ہے
کیا ہے غم ظفرؔ تجھے حشر کا جو خدا نے چاہا تو برملا
ہمیں ہے وسیلہ رسول کا وہ ہمارا حامیٔ کار ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں