گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی
عاشقوں کے گھر مٹھائی لب شکر بٹ جائے گی
روبرو گر ہوگا یوسف اور تو آ جائے گا
اس کی جانب سے زلیخا کی بٹ جائے گی
رہزنوں میں ناز و غمزہ کی یہ جنس دین و
جوں متاع بردہ آخر ہم دگر بٹ جائے گی
ہوگا کیا گر بول اٹھے غیر باتوں میں مری
پھر طبیعت میری اے بیداد گر بٹ جائے گی
دولت دنیا نہیں جانے کی ہرگز تیرے ساتھ
بعد تیرے سب یہیں اے بے خبر بٹ جائے گی
کر لے اے دل جان کو بھی رنج و غم میں تو شریک
یہ جو محنت تجھ پہ ہے کچھ کچھ مگر بٹ جائے گی
مونگ چھاتی پہ جو دلتے ہیں کسی کی دیکھنا
جوتیوں میں دال ان کی اے ظفرؔ بٹ جائے گی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں