دیکھ کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ
گھر ہے اللہ کا یہ اس کی تو تعمیر نہ توڑ
غل سدا وادئ وحشت میں رکھوں گا برپا
اے جنوں دیکھ مرے پاؤں کی زنجیر نہ توڑ
دیکھ ٹک غور سے آئینۂ کو میرے
اس میں آتا ہے نظر عالم تصویر نہ توڑ
تاج زر کے لیے کیوں شمع کا سر کاٹے ہے
رشتۂ الفت پروانہ کو گل گیر نہ توڑ
اپنے بسمل سے یہ کہتا تھا دم نزع وہ شوخ
تھا جو کچھ عہد سو او عاشق دلگیر نہ توڑ
رقص بسمل کا تماشا مجھے دکھلا کوئی دم
دست و پا مار کے دم تو تہ شمشیر نہ توڑ
سہم کر اے ظفرؔ اس شوخ کماندار سے کہہ
کھینچ کر دیکھ مرے سینے سے تو تیر نہ توڑ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں