عالم آب و و باد سر عیاں ہے تو کہ میں
وہ جو سے ہے نہاں اس کا جہاں ہے تو کہ میں
وہ شب درد و سوز و غم کہتے ہیں زندگی جسے
اس کی سحر ہے تو کہ میں اس کی اذاں ہے تو کہ میں
کس کی نمود کے لیے شام و سحر ہیں گرم سیر
شانۂ روزگار پر نار گراں ہے تو کہ میں
تو کف خاک و بے بصر میں کف خاک و خود نگر
کشت وجود کے لیے آب رواں ہے تو کہ میں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا