میں بسا ہے جو مگر نظر نہیں آتا
کون ہے یہ کہ کس کا کوئی گھر نہیں آتا
راتوں کو جاگ جاگ کے دیکھا کیا ہوں میں
وہ اب تو میرے بام پر نہیں آتا
جاتے ہوئے وہ کہہ گیا لوٹ آؤں گا ضرور
برسوں ہوئے مگر ابھی سفر نہیں آتا
سجدہ کروں تو کس کی طرف رخ کروں بتا
وہ ہر جگہ ہے پھر بھی کہیں پر نہیں آتا
اے درد اپنے دل میں ہی ڈھونڈا کیا اُسے
وہ پاس ہے مگر نظر پر نہیں آتا
تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں
ساری عمر رویا کیے ہم
ہائے کیا دن تھے کہ ہم بھی تھے