سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
قدسی الاصل ہے رفعت پہ رکھتی ہے
خاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے
عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا
آسمان چیر گیا نالۂ بیتاب مرا
ہے مرا طور فرشتوں سے سوا نور کے ساتھ
نار بھی مجھ میں ہے اور ہوش بھی سر رکھتی ہے
کھول کر دے مجھے اے دستِ جنوں پردۂ راز
اقبال اپنی ہی نظر تجھ پہ مگر رکھتی ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں
کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند