مے، ساقی اور میخانہ — جہاں نشہ بصیرت بن جاتا ہے۔
یہاں کی مے شاید ہی صرف مے ہو۔
تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
یہ عشق یہ جنون یہ ہوش یہ خرد
سب تیری راہ کے غبار ہیں میرے خدا
دلِ بے تاب کو منزل کا پتا مل جائے
اس اندھیری سی ڈگر میں کوئی دیا مل جائے
ہے آج وہی جلوۂ حسنِ ازل مگر
اب دیکھنے کو آنکھ نہیں بے نقاب ہے
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا