میراث کے لیے لکھا معاصر کلام — شہر، جلاوطنی، اسکرین کی رات۔
اصل کلام، تاکہ آرکائیو کا ایک زندہ حال ہو۔
ہر رات کے آخر میں چھپی ایک سحر ہوتی ہے
تھکی آنکھوں میں بھی کوئی نئی دوپہر ہوتی ہے
میں اپنا شہر چھوڑ آئی پر شہر نہ چھوڑ سکا مجھے
ہر خواب میں وہی گلی وہی گھر وہی در ہوتا ہے
میں مشرق کی بیٹی ہوں مگر مغرب میں بسی ہوں
دو دنیاؤں کے درمیان ایک پل سی تنی ہوں
وطن وہ نہیں جہاں پیدا ہوئے تھے ہم
وطن وہ ہے جہاں دل کو قرار آتا ہے
میں ایک مسافر ہوں میری منزل کوئی نہیں
ہر راہ میری ہے اور ہر گھر میرا نہیں
دن بھر کی محنت کے بعد جب روٹی نظر آتی ہے
تو مزدور کے ہاتھوں میں پوری کائنات آتی ہے
ہر ہاتھ میں ایک روشن سا شفاف سا آئینہ ہے
مگر کوئی کسی کی آنکھوں میں نہیں دیکھتا
نیند آنکھوں سے روٹھ کے کہیں چلی گئی ہے
اور میں ہوں یہ رات ہے اور ایک جلتی اسکرین ہے