نئی شروعات کے اشعار — نیا سال، نئی راہ، نیا عزم۔
ان میں سے ایک کو سامنے رکھیے۔
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشان ہونا
خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
الفت کا جس سے مجھ کو دم بھر کو واسطہ ہے
یہ سمجھتے تھے کہ پاسِ وفا کرتے ہیں
لو وہ بھی کہہ دیا کہ ہم جفا کرتے ہیں
میں ایک مسافر ہوں میری منزل کوئی نہیں
ہر راہ میری ہے اور ہر گھر میرا نہیں
دن بھر کی محنت کے بعد جب روٹی نظر آتی ہے
تو مزدور کے ہاتھوں میں پوری کائنات آتی ہے
کسی بھوکے کو کھلا دو تو خدا مل جاتا ہے
یہ عبادت ہر مسجد ہر مندر سے بڑی ہے
ہر رات کے آخر میں چھپی ایک سحر ہوتی ہے
تھکی آنکھوں میں بھی کوئی نئی دوپہر ہوتی ہے
میں اپنا شہر چھوڑ آئی پر شہر نہ چھوڑ سکا مجھے
ہر خواب میں وہی گلی وہی گھر وہی در ہوتا ہے