گرم جوشی، رفاقت اور چھوٹی مہربانیاں — کسی عزیز کو بھیجنے کے لیے۔
نظیر کا ماننا تھا کہ مہربانی ہی پورا دین ہے۔
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
ٹک حرص و ہوس کو چھوڑ میاں، مت دیس بدیس پھرے مارا
یاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمی
اور آدمی ہی تیغ سے مارے ہے آدمی
جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
اور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
میں ایک مسافر ہوں میری منزل کوئی نہیں
ہر راہ میری ہے اور ہر گھر میرا نہیں
دن بھر کی محنت کے بعد جب روٹی نظر آتی ہے
تو مزدور کے ہاتھوں میں پوری کائنات آتی ہے
کسی بھوکے کو کھلا دو تو خدا مل جاتا ہے
یہ عبادت ہر مسجد ہر مندر سے بڑی ہے
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
ان کا جو فرض ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے