آدھی کو جب سارا شہر سو جاتا ہے
میری آنکھوں میں ایک جاگتی رہتی ہے
ہاتھ میں ایک چھوٹی سی دنیا ہے جو جگمگاتی ہے
جہاں ہزاروں لوگ ہیں مگر کوئی اپنا نہیں
میں اسکرول کرتا ہوں زندگی کو انگلی کے اشارے سے
مگر دل کی خالی جگہ کوئی ایپ نہیں بھر سکتا
اس روشنی کے پیچھے ایک اندھیرا بھی چھپا ہے
جسے کوئی نوٹیفکیشن دور نہیں کر سکتا
ہر ہاتھ میں ایک روشن سا شفاف سا آئینہ ہے
مگر کوئی کسی کی آنکھوں میں نہیں دیکھتا
نیند آنکھوں سے روٹھ کے کہیں چلی گئی ہے
اور میں ہوں یہ رات ہے اور ایک جلتی اسکرین ہے
شہر سو جاتا ہے پر اس کی روشنی نہیں سوتی
ہر کھڑکی ایک جاگتی ہوئی آنکھ کی طرح ہوتی ہے
ہزاروں لوگ میرے آس پاس ہیں پھر بھی
میں اس بھیڑ میں بھی تنہا سا رہ جاتا ہوں
دل کی بات اب لفظوں میں نہیں تصویروں میں ہوتی ہے
مگر درد کا کوئی نشان ابھی تک نہیں بنا
تجھے میں نے کبھی دیکھا نہیں صرف پڑھا ہے
مگر تیرے لفظوں میں بھی تیری خوشبو آتی ہے