میں وہ مسافر ہوں جس کی کوئی نہیں
ہر صبح ایک نئی پر نکل پڑتا ہوں
کبھی دھوپ میں کبھی بارش میں چلتے ہوئے
میں نے سیکھا ہے کہ ہر راہ کہیں نہ کہیں جاتی ہے
تھکتا ہوں تو کسی پیڑ کے سائے میں بیٹھ جاتا ہوں
اور اجنبی لوگ مجھے پانی پلا دیتے ہیں
یہی تو ہے اس دنیا کی سب سے بڑی دولت
کہ ہر اجنبی میں چھپا ہے ایک اپنا سا انسان
میں ایک مسافر ہوں میری منزل کوئی نہیں
ہر راہ میری ہے اور ہر گھر میرا نہیں
دن بھر کی محنت کے بعد جب روٹی نظر آتی ہے
تو مزدور کے ہاتھوں میں پوری کائنات آتی ہے
کسی بھوکے کو کھلا دو تو خدا مل جاتا ہے
یہ عبادت ہر مسجد ہر مندر سے بڑی ہے
رات کو جب سڑکیں سوتی ہیں میں جاگتا ہوں
شاید کوئی مسافر ابھی تک راہ میں ہے
ہر صبح ایک نئی امید لے کے آتی ہے
تھک کے بیٹھا ہوں مگر ہارا نہیں ہوں میں
میرے پاس دینے کو صرف دو باتیں ہیں
تھوڑا سا درد اور تھوڑی سی محبت