اٹھو کہ وقتِ رخصتِ شب ہے قریب
ہر کی دوا ہے نئے دور کی تدبیر
توڑو یہ زنجیریں جو صدیوں سے پڑی ہیں
اب کھول دو یہ بند جو دل پر چڑھی ہیں
مزدور کے ہاتھوں میں ہے اس دور کی تقدیر
کسان کے ماتھے پہ لکھی ہے نئی تحریر
اٹھو کہ نیا گیت نئے ساز سے گائیں
مجاز آج انقلاب کا پیغام سنائیں
اب اس کے بعد صبح ہے اور صبحِ نو مجاز
ہم پر ہے ختم شامِ غریبانِ لکھنؤ
تیرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارہ پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں
آج پھر دل نے مچایا ہے محل کیا کروں
اب مجھے کوئی تمنا کوئی حسرت بھی نہیں
مٹ گئے دل کے نقوش ایسی مصیبت بھی نہیں
خوب پہچان لو اسرار ہوں میں
جنسِ الفت کا طلب گار ہوں میں