یہ کالج یہ ڈگری یہ انگریزی کا چلن
سب سیکھ لیا ہم نے پر بھلا دیا اپنا
لباس تو ب گیا مگر کیا دل بھی بدلے گا
جو عقل ادھار کی ہو وہ کب تک کام آئے گا
ہر شے میں نقلِ غیر ہے اصلیت کہیں گم ہے
یہ ترقی تو ہے مگر تہذیب ہماری کم ہے
اکبر یہ نئی روشنی دل کو نہ بھا سکے گی
چراغِ خودی جب تک نہ ہو دنیا نہ سلجھ سکے گی
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں