کی بات زبان تک نہ آنے پائی
آنکھوں ہی آنکھوں میں وہ کہانی رہ گئی
ہم تو سمجھتے تھے کہ پاس ہے
راہِ محبت میں مگر تنہائی رہ گئی
جس کو پانا تھا اسے کھونا پڑا
ایک حسرت دل میں انجانی رہ گئی
داغ لکھتے ہیں یہ افسانہِ غم
جو نہ ہو پوری وہی نشانی رہ گئی
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا