اس شہرِ دکن کی ہر گلی میں
اک چھپا ہے دلکشی میں
بولو تو میں مٹھاس آئے
چپ ہو تو نگاہ میں اداسی میں
ہر شعر ہے جیسے موسمِ گل
ہر لفظ بسا ہے زندگی میں
یہ شہر ولی کا مسکن ہے
یہیں جان بسی ہے شاعری میں
کیا کہوں کچھ کہا نہیں جاتا
اب تو بن تیرے رہا نہیں جاتا
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
ہے وظیفہ مجھ دلِ بیمار کا
راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں
تا قیامت کھلا ہے بابِ سخن
جسے عشق کا تیر کاری لگے
اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مجھ دلِ بیمار کا