شب کا کچھ سرا ہی نہ تھا
یہ تھا کہ پھر کچھ رہا ہی نہ تھا
تری یاد میں آنسو بہتے رہے
کنارہ کوئی ان کا آتا نہ تھا
صبا پوچھ تجھ سے یہ اے جوئے اشک
وہ دلبر مرا کس طرف جاتا تھا
کہے میر اب درد کے اس سفر میں
کوئی ہم سفر ہم سے آگاہ نہ تھا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
میرؔ اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے
پر اے زباں دراز بہت ہو چکی خموش
شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے
تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے
ایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سب
کارواں لخت دل ہر اشک کے ہم راہ ہے
ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئے
یہ دو سالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے
پا برہنہ خاک سر میں مو پریشاں سینہ چاک
حال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دل خواہ ہے
اس جنوں پر میرؔ کوئی بھی پھرے ہے شہر میں
جادۂ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے