تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا
اک تو ہے جو لفظوں میں ادا ہو نہیں سکتا
آنکھوں میں خیالات میں سانسوں میں بسا ہے
چاہے بھی تو مجھ سے وہ جدا ہو نہیں سکتا
جینا ہے تو یہ جبر بھی سہنا ہی پڑے گا
قطرہ ہوں سمندر سے خفا ہو نہیں سکتا
گمراہ کئے ہوں گے کئی سے جذبے
ایسے تو کوئی راہنما ہو نہیں سکتا
قد میرا بڑھانے کا اسے کام ملا ہے
جو اپنے ہی پیروں پہ کھڑا ہو نہیں سکتا
اے پیار ترے حصے میں آیا تری قسمت
وہ جو چہروں سے ادا ہو نہیں سکتا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.