میں یہ نہیں کہتا کہ مرا سر نہ ملے گا
لیکن مری آنکھوں میں تجھے نہ ملے گا
سر پر تو بٹھانے کو ہے تیار زمانہ
لیکن ترے رہنے کو یہاں گھر نہ ملے گا
جاتی ہے چلی جائے یہ مے خانے کی رونق
کم ظرفوں کے ہاتھوں میں تو نہ ملے گا
دنیا کی طلب ہے تو قناعت ہی نہ کرنا
قطرے ہی سے خوش ہو تو سمندر نہ ملے گا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.