کہاں قطرہ کی خواری کرے ہے
سمندر ہے اداکاری کرے ہے
کوئی مانے نہ مانے اس کی مرضی
مگر وہ حکم تو جاری کرے ہے
نہیں لمحہ بھی جس کی دسترس میں
وہی صدیوں کی تیاری کرے ہے
بڑے آدرش ہیں باتوں میں لیکن
وہ سارے کام بازاری کرے ہے
ہماری بات بھی آئے تو جانیں
وہ باتیں تو بہت ساری کرے ہے
یہی اخبار کی سرخی بنے گا
ذرا سا کام چنگاری کرے ہے
بلاوا آئے گا چل دیں گے ہم بھی
کی کون تیاری کرے ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.