حادثوں کی زد پہ ہیں تو مسکرانا چھوڑ دیں
زلزلوں کے سے کیا گھر بنانا چھوڑ دیں
تم نے میرے گھر نہ آنے کی کھائی تو ہے
آنسوؤں سے بھی کہو آنکھوں میں آنا چھوڑ دیں
پیار کے دشمن کبھی تو پیار سے کہہ کے تو دیکھ
ایک تیرا در ہی کیا ہم تو زمانہ چھوڑ دیں
گھونسلے ویران ہیں اب وہ پرندے ہی کہاں
اک بسیرے کے لئے جو آب و دانہ چھوڑ دیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.