اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے
مجھ تک میرے حصے کی دھوپ آنے دے
ایک میں کئی زمانے دیکھے تو
بوڑھی آنکھوں کی تصویر بنانے دے
بابا دنیا جیت کے میں دکھلا دوں گا
اپنی سے دور تو مجھ کو جانے دے
میں بھی تو اس باغ کا ایک پرندہ ہوں
میری ہی آواز میں مجھ کو گانے دے
پھر تو یہ اونچا ہی ہوتا جائے گا
بچپن کے ہاتھوں میں چاند آ جانے دے
فصلیں پک جائیں تو کھیت سے بچھڑیں گی
روتی آنکھ کو پیار کہاں سمجھانے دے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.