شراب شوق سیں سرشار ہیں ہم
کبھو بے خود کبھو ہشیار ہیں ہم
دو رنگی سوں تری اے سرو رعنا
کبھو راضی کبھو بیزار ہیں ہم
ترے تسخیر کرنے میں سریجن
کبھی ناداں کبھی عیار ہیں ہم
تیرے نین کی آرزو میں
کبھو سالم کبھی بیمار ہیں ہم
ولیؔ وصل و سوں سجن کی
کبھو صحرا کبھو گل زار ہیں ہم
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مجھ دلِ بیمار کا