شغل بہتر ہے بازی کا
کیا حقیقی و کیا مجازی کا
ہر زباں پر ہے مثل شانہ مدام
ذکر تجھ زلف کی درازی کا
آج تیری بھواں نے مسجد میں
ہوش کھویا ہے ہر نمازی کا
گر نئیں راز سوں آگاہ
فخر بے جا ہے فخر رازی کا
اے ولیؔ سرو قد کو دیکھوں گا
وقت آیا ہے سرفرازی کا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مجھ دلِ بیمار کا