مفلسی سب کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
کیونکے حاصل ہو مج کو جمعیت
زلف تیری قرار کھوتی ہے
ہر شوخ کی نگہ کی شراب
مجھ انکھاں کا خمار کھوتی ہے
کیونکے ملنا صنم کا ترک کروں
دلبری اختیار کھوتی ہے
اے ولیؔ آب اس پری رو کی
مجھ سنے کا غبار کھوتی ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مجھ دلِ بیمار کا