یہ وادیاں یہ فضائیں بلا رہی ہیں تمہیں
خموشیوں کی صدائیں بلا رہی ہیں تمہیں
ترس رہے ہیں جواں ہونٹ چھونے کو
مچل مچل کے ہوائیں بلا رہی ہیں تمہیں
تمہاری زلفوں سے کی بھیک لینے کو
جھکی جھکی سی گھٹائیں بلا رہی ہیں تمہیں
حسین چمپئی پیروں کو جب سے دیکھا ہے
ندی کی مست ادائیں بلا رہی ہیں تمہیں
مرا کہا نہ سنو ان کی بات تو سن لو
ہر ایک دل کی دعائیں بلا رہی ہیں تمہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.