سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں
ملا ہو جنہیں وہ خدا کی بات کریں
انہیں پتہ بھی چلے اور وہ خفا بھی نہ ہوں
اس احتیاط سے کیا مدعا کی بات کریں
ہمارے عہد کی تہذیب میں قبا ہی نہیں
اگر قبا ہو تو بند قبا کی بات کریں
ہر ایک دور کا مذہب نیا لایا
کریں تو ہم بھی مگر کس خدا کی بات کریں
وفا شعار کئی ہیں کوئی حسیں بھی تو ہو
چلو پھر آج اسی بے وفا کی بات کریں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.