پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہے
سرمئی اجالا ہے چمپئی اندھیرا ہے
دونوں وقت ملتے ہیں دو دلوں کی صورت سے
نے خوش ہو کر رنگ سا بکھیرا ہے
ٹھہرے ٹھہرے میں گیت سرسراتے ہیں
بھیگے بھیگے جھونکوں میں خوشبوؤں کا ڈیرا ہے
کیوں نہ جذب ہو جائیں اس حسیں نظارے میں
روشنی کا جھرمٹ ہے مستیوں کا گھیرا ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.