نہ تو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لیے
ترا وجود ہے اب داستاں کے لیے
پلٹ کے سوئے دیکھنے سے کیا ہوگا
وہ شاخ ہی نہ رہی جو تھی آشیاں کے لیے
غرض پرست جہاں میں وفا تلاش نہ کر
یہ شے بنی تھی کسی دوسرے جہاں کے لیے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.