ہر چند مری قوت گفتار ہے محبوس
خاموش مگر طبع خود آرا نہیں ہوتی
معمورۂ احساس میں ہے حشر سا برپا
انسان کی تذلیل گوارا نہیں ہوتی
نالاں ہوں میں بیداریٔ احساس کے ہاتھوں
دنیا مرے افکار کی دنیا نہیں ہوتی
بیگانہ صفت جادۂ سے گزر جا
ہر چیز سزاوار نظارہ نہیں ہوتی
کی مشیت بھی بڑی چیز ہے لیکن
فطرت کبھی بے بس کا سہارا نہیں ہوتی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.