دیکھا تو تھا یوں ہی کسی غفلت شعار نے
دیوانہ کر دیا بے اختیار نے
اے آرزو کے دھندلے خرابو جواب دو
پھر کس کی آئی تھی مجھ کو پکارنے
تجھ کو خبر نہیں مگر اک سادہ لوح کو
برباد کر دیا ترے دو دن کے پیار نے
میں اور تم سے ترک محبت کی آرزو
دیوانہ کر دیا ہے غم روزگار نے
اب اے دل تباہ ترا کیا خیال ہے
ہم تو چلے تھے کاکل گیتی سنوارنے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.