دیکھا ہے کو کچھ اتنے قریب سے
چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے
اے روح عصر جاگ کہاں سو رہی ہے تو
آواز دے رہے ہیں پیمبر صلیب سے
اس رینگتی حیات کا کب تک اٹھائیں بار
بیمار اب الجھنے لگے ہیں طبیب سے
ہر گام پر ہے مجمع عشاق منتظر
مقتل کی ملتی ہے کوئے حبیب سے
اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ
جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.