اب کوئی گلشن نہ اجڑے اب وطن ہے
روح گنگا کی ہمالہ کا بدن آزاد ہے
کھیتیاں سونا اگائیں وادیاں موتی لٹائیں
آج گوتم کی زمیں تلسی کا بن آزاد ہے
مندروں میں سنکھ باجے مسجدوں میں ہو اذاں
کا دھرم اور دین برہمن آزاد ہے
لوٹ کیسی بھی ہو اب اس دیش میں رہنے نہ پائے
آج سب کے واسطے دھرتی کا دھن آزاد ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.