ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا
مگر جو تو نہ ملا زیست کا مزا نہ ملا
حیات شوق کی یہ گرمیاں کہاں ہوتیں
کا شکر ہمیں نالۂ رسا نہ ملا
ازل سے فطرت آزاد ہی تھی آوارہ
یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا
یہ کائنات کسی کا غبار سہی
دلیل راہ جو بنتا وہ نقش پا نہ ملا
یہ دل شہید فریب نگاہ ہو نہ سکا
وہ لاکھ ہم سے بہ انداز محرمانہ ملا
کنار موج میں مرنا تو ہم کو آتا ہے
نشان ساحل الفت ملا ملا نہ ملا
تری تلاش ہی تھی مایۂ بقائے وجود
بلا سے ہم کو سر منزل بقا نہ ملا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.