یہ کیسی کشمکش ہے میں
کسی کو ڈھونڈتے ہیں ہم کسی میں
جو کھو جاتا ہے مل کر میں
غزل ہے نام اس کا شاعری میں
نکل آتے ہیں آنسو ہنستے ہنستے
یہ کس غم کی کسک ہے ہر خوشی میں
کہیں چہرہ کہیں آنکھیں کہیں لب
ہمیشہ ایک ملتا ہے کئی میں
چمکتی ہے اندھیروں میں خموشی
ستارے ٹوٹتے ہیں رات ہی میں
سلگتی ریت میں پانی کہاں تھا
کوئی بادل چھپا تھا تشنگی میں
بہت مشکل ہے بنجارہ مجازی
سلیقہ چاہیے آوارگی میں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے