یقین پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ
مگر میں تھوڑا سا انتظار بھی رکھ
خدا کے ہاتھ میں مت سونپ سارے کاموں کو
بدلتے وقت پہ کچھ اپنا اختیار بھی رکھ
یہ ہی لہو ہے شہادت یہ ہی لہو پانی
خزاں نصیب سہی ذہن میں بہار بھی رکھ
گھروں کے طاقوں میں گلدستے یوں نہیں سجتے
جہاں ہیں پھول وہیں آس پاس خار بھی رکھ
پہاڑ گونجیں ندی گائے یہ ضروری ہے
سفر کہیں کا ہو دل میں کسی کا پیار بھی رکھ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے