اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے
جو ہوا وہ نہ ہوا ہوتا یہ باقی ہے
اب نہ وہ چھت ہے نہ وہ زینہ نہ انگور کی بیل
اک اس کو بھلانے کی قسم باقی ہے
میں نے پوچھا تھا سبب پیڑ کے گر جانے کا
اٹھ کے مالی نے کہا اس کی قلم باقی ہے
جنگ کے فیصلے میداں میں کہاں ہوتے ہیں
جب تلک حافظے باقی ہیں علم باقی ہے
تھک کے گرتا ہے ہرن صرف شکاری کے لیے
جسم گھائل ہے مگر آنکھوں میں رم باقی ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے